6 مارچ 2013 - 20:30

اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی نے پاکستان میں حالیہ دھشتگردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ: برسوں سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان کے اندر کچھ شدت پسند گروہوں نے قتل و غارت کا بازار عام کر رکھا ہے اور وہ خود عدالت سے کوسوں دور ہیں یا عدالت ان سے کوسوں دور ہے اور ان بے گناہ انسانوں کا خون بہانے کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جن کا گناہ صرف یہ ہے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی ولایت اور اہلبیت رسول (ص) کی محبت دل میں رکھتے ہیں۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی نے اپنے ایک بیان میں پاکستان کے مظلوم شیعوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی۔اس بیانیہ میں پاکستان کے شیعوں کے خلاف ہونے والی دھشتگردانہ کاروائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: برسوں سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان کے اندر کچھ شدت پسند گروہوں نے قتل و غارت کا بازار عام کر رکھا ہے اور وہ خود عدالت سے کوسوں دور ہیں یا عدالت ان سے کوسوں دور ہے اور ان بے گناہ انسانوں کا خون بہانے کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جن کا گناہ صرف یہ ہے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی ولایت اور اہلبیت رسول (ص) کی محبت دل میں رکھتے ہیں۔اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی کے اس بیانیہ کے دوسرے حصہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ مسلمانان عالم کو دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آپسی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے اور یہ دھشتگردانہ کاروائیاں شیطانی اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور شیعہ سنی اختلاف پھیلانے کی غرض سے کی جاتی ہیں۔بیانیہ کا ترجمہ یہ ہے:مَن قَتَل َنَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَو فَسَادٍ فِی الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَل َالنَّاسَ جَمِیعًاجو شخص کسی کو ناحق قتل کرے گا یعنی بغیر اس کے کسی کی جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں فساد پھیلائے اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا۔( مائدہ،۳۲)پاکستان کے شہر کراچی میں دھشت گرد گروہ جھنگوی کے ہاتھوں شیعوں کے قتل عام نے عالم اسلام کی فکری اور سماجی فضا کو غم آلود اور دلوں کو محزون کر دیا ہے۔برسوں سے ہم پاکستان میں شیعوں کے خلاف دھشت گردانہ کاروائیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ برسوں سے ہم سن رہے ہیں کہ پاکستان میں بعض شدت پسند گروہ قتل و غارت اور کشت و کشار کا بازار عام کر رہے ہیں اور وہ خود عدالت سے کوسوں دور ہیں یا عدالت ان سے کوسوں دور ہے۔ اور ان بے گناہ انسانوں کا خون بہانے کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا جن کا گناہ صرف یہ ہے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی ولایت اور اہلبیت رسول (ص) کی محبت دل میں رکھتے ہیں۔آج مسلمانان عالم کی اہم ترین ضرورت دشمنوں کے مقابلہ میں آپسی اتحاد اور یکجہتی ہے اور یقینا یہ دھشت گردانہ کاروائیاں اور اس طرح کے دیگر اعمال، شیطانی اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور شیعہ سنی تفرقہ اندازی کرنے کی غرض سے ان افراد کے ذریعہ وجود میں لائے جاتے ہیں جو دشمن کے منحوس ارادوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں اور کفر کے فتوے لگا کر، قتل و غارت پھیلا کر اور مسلمانوں میں رخنہ ڈال کر دشمن کے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی پاکستان کے حالیہ دھشتگردانہ واقعات میں پسنے والے مظلوم مصیبت دیدہ افراد سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ان ناقابل بخشش اعمال کی شدت سے مذمت کرتی ہے اور حکومت پاکستان سے ان واقعات کے عوامل کو جلد از جلد گرفتار کر کے انہیں ان کے کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتی ہے اور عالمی سماج اورعالمی حقوقی تنظیموں سے اس طرح کے کرائم کا سد باب کرنے کے لیے مدد طلب کرتی ہے۔                                                                                                             اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی                                                                                                                     ۷،۳،۲۰۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲